Showing posts with label Saheeh Bukhari Kitabul Emaan. Show all posts
Showing posts with label Saheeh Bukhari Kitabul Emaan. Show all posts

Which Islam is Best, Who is very good Muslim


صحیح بخاری
کتاب الایمان
باب: کون سا اسلام افضل ہے؟
BUKHARI 1.11:حدیث نمبر:
Narrated Abu Musa: Some people asked Allah's Apostle, 
"Whose Islam is the best? i.e. (Who is a very good Muslim)?"
 He replied, "One who avoids harming the Muslims with his tongue
and hands."

حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد القرشي،‏‏‏‏ قال حدثنا أبي قال،‏‏‏‏ حدثنا أبو بردة بن عبد الله بن أبي بردة،‏‏‏‏ عن أبي بردة،‏‏‏‏ عن أبي موسى ـ رضى الله عنه ـ قال قالوا يا رسول الله أى الإسلام أفضل قال ‏"‏ من سلم المسلمون من لسانه ويده ‏"‏‏.‏
ہم کو سعید بن یحییٰ بن سعید اموی قریشی نے یہ حدیث سنائی، انھوں نے اس حدیث کو اپنے والد سے نقل کیا، انھوں نے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے، انھوں نے ابی بردہ سے، انھوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں۔

The special Character of Muslim, in Kitabul Emaan Shahih Bukhari


صحیح بخاری
کتاب الایمان
BUKHARI 1.9:
Narrated `Abdullah bin `Amr: 
The Prophet said, "A Muslim is the one who avoids harming Muslims with his tongue and hands.
And a Muhajir (emigrant) is the one who gives up (abandons) all what Allah has forbidden."(
باب: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان بچے رہیں کوئی تکلیف نہ پائیں


حدثنا آدم بن أبي إياس،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن عبد الله بن أبي السفر،‏‏‏‏ وإسماعيل،‏‏‏‏ عن الشعبي،‏‏‏‏ عن عبد الله بن عمرو ـ رضى الله عنهما ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده،‏‏‏‏ والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه ‏"‏‏.‏ قال أبو عبد الله وقال أبو معاوية حدثنا داود عن عامر قال سمعت عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏ وقال عبد الأعلى عن داود عن عامر عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے یہ حدیث بیان کی، ان کو شعبہ نے وہ عبداللہ بن ابی السفر اور اسماعیل سے روایت کرتے ہیں، وہ دونوں شعبی سے نقل کرتے ہیں، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے فرمایا اور ابومعاویہ نے کہ ہم کو حدیث بیان کی داؤد بن ابی ہند نے، انھوں نے روایت کی عامر شعبی سے، انھوں نے کہا کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے، وہ حدیث بیان کرتے ہیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (وہی مذکورہ حدیث) اور کہا کہ عبدالاعلیٰ نے روایت کیا داؤد سے، انھوں نے عامر سے، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ 
علیہ وسلم سے۔

10حدیث نمبر: 

More than Sixty Branches of Emaan and Modesty is also one of the Branches of Emaan, Sahih Al Bukhari Kitabul Emaan Hadith No 9


1.8:
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Faith (Belief)
consists of more than sixty branches (i.e. parts). And Haya'
(This word "Haya'" covers a large number of concepts which are
to be taken together; amongst them are self respect, modesty,
bashfulness, and scruple, etc. Its predominant meaning is:
pious shyness from committing religious indiscretions) is a
part of faith." (Bukhari 1:8)


صحیح بخاری
کتاب الایمان
باب: ایمان کے کاموں کا بیان

وهو قول وفعل،‏‏‏‏ ويزيد وينقص،‏‏‏‏ قال الله تعالى: {ليزدادوا إيمانا مع إيمانهم} الفتح: 4. {وزنادهم هدى} الكهف: 13. {ويزيد الله الذين اهتدوا هدى} مريم: 76. {والذين اهتدوا زادهم هدى وآتاهم تقواهم} محمد: 17. {ويزداد الذين آمنوا إيمانا} المدثر: 31. وقوله: {أيكم زادته هذه إيمانا فأما الذين آمنوا فزادتهم إيمانا} التوبة: 124. وقوله جل ذكره: {فاخشوهم فزادهم إيمانا} آل عمران: 173. وقوله تعالى: {وما زادهم إلا إيمانا وتسليما} الأحزاب: 22. والحب في الله والبغض في الله من الإيمان. وكتب عمر بن عبد العزيز إلى عدي بن عدي: إن للإيمان فرائض وشرائع وحدودا وسننا،‏‏‏‏ فمن استكملها استكمل الإيمان،‏‏‏‏ ومن لم يستكملها لم يستكمل الإيمان،‏‏‏‏ فإن أعش فسأبينها لكم حتى تعملوا بها،‏‏‏‏ وإن أمت فما أنا على 
صحبتكم بحريص.

اور اللہ پاک کے اس فرمان کی تشریح کہ نیکی یہی نہیں ہے کہ تم (نماز میں) اپنا منہ پورب یا پچھم کی طرف کر لو بلکہ اصلی نیکی تو اس انسان کی ہے جو اللہ (کی ذات و صفات) پر یقین رکھے اور قیامت کو برحق مانے اور فرشتوں کے وجود پر ایمان لائے اور آسمان سے نازل ہونے والی کتاب کو سچا تسلیم کرے۔ اور جس قدر نبی رسول دنیا میں تشریف لائے ان سب کو سچا تسلیم کرے۔ اور وہ شخص مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں اپنے (حاجت مند) رشتہ داروں کو اور (نادار) یتیموں کو اور دوسرے محتاج لوگوں کو اور (تنگ دست) مسافروں کو اور (لاچاری) میں سوال کرنے والوں کو اور (قیدی اور غلاموں کی) گردن چھڑانے میں اور نماز کی پابندی کرتا ہو اور زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے والے جب وہ کسی امر کی بابت وعدہ کریں۔

 اور وہ لوگ جو صبر و شکر کرنے والے ہیں تنگ دستی میں اور بیماری میں اور (معرکہ) جہاد میں یہی لوگ وہ ہیں جن کو سچا مومن کہا جا سکتا ہے اور یہی لوگ درحقیقت پرہیزگار ہیں۔

 یقیناً ایمان والے کامیاب ہو گئے۔ جو اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کرنے والے ہیں اور جو لغو باتوں سے برکنار رہنے والے ہیں اور وہ جو زکوٰۃ سے پاکیزگی حاصل کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے کیونکہ ان کے ساتھ صحبت کرنے میں ان پر کوئی الزام نہیں۔ ہاں جو ان کے علاوہ (زنا یا لواطت یا مشت زنی وغیرہ سے) شہوت رانی کریں ایسے لوگ حد سے نکلنے والے ہیں۔ اور جو لوگ اپنی امانت و عہد کا خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کی کامل طور پر حفاظت کرتے ہیں یہی لوگ جنت الفردوس کی وراثت حاصل کر لیں گے پھر وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
حدیث نمبر: 9
حدثنا عبد الله بن محمد،‏‏‏‏ قال حدثنا أبو عامر العقدي،‏‏‏‏ قال حدثنا سليمان بن بلال،‏‏‏‏ عن عبد الله بن دينار،‏‏‏‏ عن أبي صالح،‏‏‏‏ عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ الإيمان بضع وستون شعبة،‏‏‏‏ والحياء شعبة من الإيمان‏"‏‏.
ہم سے بیان کیا عبداللہ بن محمد جعفی نے، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابوعامر عقدی نے، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا سلیمان بن بلال نے، انھوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے روایت کیا ابوصالح سے، انہوں نے نقل کیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نقل فرمایا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ اور حیاء (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔

It is important to increase Emaan, Hadith No 8 Shahih Bukhari Kitabul Emaan


صحیح بخاری
کتاب الایمان
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی تشریح سے متعلق ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے

وقول الله تعالى ‏ {‏ ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملائكة والكتاب والنبيين وآتى المال على حبه ذوي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب وأقام الصلاة وآتى الزكاة والموفون بعهدهم إذا عاهدوا والصابرين في البأساء والضراء وحين البأس أولئك الذين صدقوا وأولئك هم المتقون‏}‏‏.‏ وقوله ‏ {‏ قد أفلح المؤمنون‏}‏ الآية‏.‏
اور ایمان کا تعلق قول اور فعل ہر دو سے ہے اور وہ بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ایمان میں اور زیادتی ہو۔“ (سورۃ الفتح: 4) اور فرمایا کہ ہم نے ان کو ہدایت میں اور زیادہ بڑھا دیا (سورۃ الکہف: 13) اور فرمایا کہ جو لوگ سیدھی راہ پر ہیں ان کو اللہ اور ہدایت دیتا ہے (سورۃ مریم: 76) اور فرمایا کہ جو لوگ ہدایت پر ہیں اللہ نے اور زیادہ ہدایت دی اور ان کو پرہیزگاری عطا فرمائی (سورۃ محمد: 17) اور فرمایا کہ جو لوگ ایماندار ہیں ان کا ایمان اور زیادہ ہوا (سورۃ المدثر: 31) اور فرمایا کہ اس سورۃ نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا؟ فی الواقع جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا (سورۃ التوبہ: 124) اور فرمایا کہ منافقوں نے مومنوں سے کہا کہ تمہاری بربادی کے لیے لوگ بکثرت جمع ہو رہے ہیں، ان کا خوف کرو۔ پس یہ بات سن کر ایمان والوں کا ایمان اور بڑھ گیا اور ان کے منہ سے یہی نکلا حسبنا اللہ ونعم الوکیل (سورۃ آل عمران: 173) اور فرمایا کہ ان کا اور کچھ نہیں بڑھا، ہاں ایمان اور اطاعت کا شیوہ ضرور بڑھ گیا۔ (سورۃ الاحزاب: 22) اور حدیث میں وارد ہوا کہ اللہ کی راہ میں محبت رکھنا اور اللہ ہی کے لیے کسی سے دشمنی کرنا ایمان میں داخل ہے (رواہ ابوداؤد عن ابی امامہ) اور خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عدی بن عدی کو لکھا تھا کہ ایمان کے اندر کتنے ہی فرائض اور عقائد ہیں۔
وقال إبراهيم ‏ {‏ ولكن ليطمئن قلبي‏}‏‏.‏ وقال معاذ اجلس بنا نؤمن ساعة‏.‏ وقال ابن مسعود اليقين الإيمان كله‏.‏ وقال ابن عمر لا يبلغ العبد حقيقة التقوى حتى يدع ما حاك في الصدر‏.‏ وقال مجاهد ‏ {‏ شرع لكم‏}‏ أوصيناك يا محمد وإياه دينا واحدا‏.‏ وقال ابن عباس ‏ {‏ شرعة ومنهاجا‏}‏ سبيلا وسنة‏.
اور حدود ہیں اور مستحب و مسنون باتیں ہیں جو سب ایمان میں داخل ہیں۔ پس جو ان سب کو پورا کرے اس نے اپنا ایمان پورا کر لیا اور جو پورے طور پر ان کا لحاظ رکھے نہ ان کو پورا کرے اس نے اپنا ایمان پورا نہیں کیا۔ پس اگر میں زندہ رہا تو ان سب کی تفصیلی معلومات تم کو بتلاؤں گا تاکہ تم ان پر عمل کرو اور اگر میں مر ہی گیا تو مجھ کو تمہاری صحبت میں زندہ رہنے کی خواہش بھی نہیں۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول قرآن مجید میں وارد ہوا ہے کہ لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے دل کو تسلی ہو جائے۔“ اور معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ ایک صحابی (اسود بن بلال نامی) سے کہا تھا کہ ہمارے پاس بیٹھو تاکہ ایک گھڑی ہم ایمان کی باتیں کر لیں۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ یقین پورا ایمان ہے (اور صبر آدھا ایمان ہے۔ رواہ الطبرانی) اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ بندہ تقویٰ کی اصل حقیقت یعنی کہنہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ جو بات دل میں کھٹکتی ہو اسے بالکل چھوڑ نہ دے۔ اور مجاہد رحمہ اللہ نے آیت کریمہ شرع لکم من الدین الخ کی تفسیر میں فرمایا کہ (اس نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ ٹھہرایا جو حضرت نوح علیہ السلام کے لیے ٹھہرایا تھا) اس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد! ہم نے تم کو اور نوح کو ایک ہی دین کے لیے وصیت کی ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کریمہ شرعۃ و منھاجا کے متعلق فرمایا کہ اس سے سبیل سیدھا راستہ اور سنت (نیک طریقہ) مراد ہے۔ اور سورۃ الفرقان کی آیت میں لفظ دعا کم کے بارے میں فرمایا کہ ایمانکم اس سے تمہارا ایمان مراد ہے۔

حدیث نمبر: 8
حدثنا عبيد الله بن موسى،‏‏‏‏ قال أخبرنا حنظلة بن أبي سفيان،‏‏‏‏ عن عكرمة بن خالد،‏‏‏‏ عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله،‏‏‏‏ وإقام الصلاة،‏‏‏‏ وإيتاء الزكاة،‏‏‏‏ والحج،‏‏‏‏ وصوم رمضان ‏"‏‏.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے یہ حدیث بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس کی بابت حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی۔ انھوں نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

Which Islam is Best, Kitabul Imaan Sahih Bukhari, کون سا اسلام افضل ہے


صحیح بخاری
کتاب الایمان

باب: کون سا اسلام افضل ہے؟ARABIC TEXT AND URDU TRANSLATION

















حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد القرشي،‏‏‏‏ قال حدثنا أبي قال،‏‏‏‏ حدثنا أبو بردة بن عبد الله بن أبي بردة،‏‏‏‏ عن أبي بردة،‏‏‏‏ عن أبي موسى ـ رضى الله عنه ـ قال قالوا يا رسول الله أى الإسلام أفضل قال ‏"‏ من سلم المسلمون من لسانه ويده ‏"‏‏.‏


ہم کو سعید بن یحییٰ بن سعید اموی قریشی نے یہ حدیث سنائی، انھوں نے اس حدیث کو اپنے والد سے نقل کیا، انھوں نے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے، انھوں نے ابی بردہ
 سے، انھوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں۔